احمدآباد 9/جنوری (ایس او نیوز) جیسے ہی سپریم کورٹ نے بلقیس بانو عصمت دری کیس کے گیارہ مجرموں کی رہائی کو منسوخ کرکے انہیں دو ہفتوں کے اندر جیل حکام کے سامنے خودسپردگی کا حکم دیا، خبر ملی ہے کہ گیارہ میں سے نو مجرم لاپتہ ہوگئے ہیں۔
میڈیا رپورٹوں کے مطابق سپریم کورٹ کے فیصلے کے چند گھنٹے بعد، جب میڈیا کے بعض لوگ گجرات کے داہود میں قصورواروں کے گاؤں (رادھیکاپور اور سنگواڑ) پہنچے تو انہیں ان کے دروازوں پر تالے لٹکتے ہوئے ملے۔
انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق جب اس کے نمائندے کا سامنا گووند نائی (55)نامی ایک مجرم کے والد 87 سالہ اکھم بھائی چتور بھائی راول سے ہوا تو اکھم بھائی نے دعویٰ کیا کہ ان کا بیٹا بے قصور ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گوند ایک ہفتہ پہلے ہی گھر سے چلا گیا تھا۔ ان کے مطابق وہ 20 سال سے جیل میں ہی رہتا آیاہے، اس لیے خاندان کے لیے یہ کوئی نئی بات نہیں ہے، انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ غیر قانونی طور پر جیل سے باہر نہیں آیا تھا بلکہ اسے قانونی طریقہ کار کے مطابق ہی رہا کیا گیا تھا اور اب قانون نے اسے واپس جیل کے اندر جانے کو کہا ہے تو وہ دوبارہ اندر جائے گا۔ دریں اثنا، پولیس نے بتایا کہ گووند ہفتہ (6 جنوری 2024) کو گھر سے نکلا تھا۔
ایک اور مجرم رادھےشیام شاہ کے تعلق سے کہا گیا ہے کہ وہ تقریباً 15 ماہ سے گھر پر نہیں ہے۔ اس کے والد بھگوان داس شاہ نے دعویٰ کیا کہ وہ اپنے بیٹے کے بارے میں کچھ نہیں جانتے ۔ وہ اپنی بیوی اور بیٹے کو ساتھ لے کر 15 ماہ پہلے ہی گھر سے نکل چکا ہے۔ لیکن گاؤں کے مصروف چوک کے پڑوسی اور دکاندار نے اس بات کی تصدیق کی کہ رادھے شیام سمیت تقریباً تمام مجرموں کو اتوار تک عوامی طور پر دیکھا گیا تھا۔
اس کیس کا ایک اور مجرم پردیپ مودھیا (57) بھی فی الحال لاپتہ ہے۔ ساتھ ہی گاؤں والوں نے میڈیا والوں کو بتایا، "اب آپ انہیں (مجرموں کو) نہیں ڈھونڈ پائیں گے۔ فی الحال سب کے گھروں پر تالے لگے ہوئے ہیں اور وہ اپنے گھروں سے بھاگ گئے ہیں۔
واضح رہے کہ گجرات میں سال 2002 میں ہوئے بھیانک فسادات میں بلقیس بانو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنی تھی، جبکہ اس کے خاندان والوں کو موت کے گھاٹ اُتارا گیا تھا۔ اجتماعی عصمت دری کے اس معاملے میں گجرات حکومت نے 11 قصورواروں کی سزا معاف کرنے کا فیصلہ سنایا تھا، جسے سپریم کورٹ نے 8 جنوری کو منسوخ کر دیا ۔ سپریم کورٹ نے مجرموں کی آزادی کے تحفظ اور انہیں جیل سے باہر رکھنے کی درخواست کو قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ جہاں قانون کی حکمرانی کو نافذ کرنے کی ضرورت ہے وہاں ہمدردی کا کوئی کردار نہیں ہونا چاہئے۔